16 جولائی 2014 - 14:05
 اہلسنت نے عزاداری کے دفاع میں ہمیں سپورٹ کیا، ہم بھی حقِ وفا نبھائیں گے: مجلس وحدت مسلمین پاکستان

دعوت افطار میں شرکاء سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ نے کہا کہ انشاءاللہ اس سال یوم القدس مثالی ہوگا، اس میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو شرکت کرنا چاہیئے، تاکہ فلسطین کے مظلوموں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے کیتھولک کلب میں دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا، جس میں ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دشمن کو نہ پہچانا تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، ڈاکٹر طاہر القادری سے روش کار پر اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کا اتحاد ناگزیر ہے، اہل سنت نے عزاداری کے دفاع میں ہمیں سپورٹ کیا، ہم بھی حقِ وفا نبھائیں گے، شیعہ سنی پاکستان کی اکثریت ہیں، جن پر ضیائی دور سے امریکی و سعودی ایماء پر اقلیت کو مسلط کرنے کی کوششیں کی گئیں، امت مسلمہ غزہ کے مظلوموں کے لئے یک زبان ہو۔ اس موقع پر مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی، علامہ شیخ حسن صلاح الدین، علامہ مختار امامی، علامہ نثار قلندری، علامہ جعفر رضا، علامہ نعیم الحسن، حسن ہاشمی، علامہ علی انور جعفری، علی حسین نقوی، انجینئر رضا نقوی، میثم عابدی، علی احمر، آصف صفوی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ دعوت افطار کے موقع پر پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نماز مغربین مولانا شیخ حسن صلاح الدین کی اقتداء میں ادا کی گئی۔
اپنے خطاب میں علامہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ سوشلزم اور کیپلٹزم کے نظام ناکام ہوچکے ہیں، آج کنزیومر ازم کا دور ہے، بچے کی بھوک اور رونا بھی کمرشل پراڈکٹ بن چکی ہیں، عالمی استکباری قوتیں دنیا میں شر اور فساد پھیلا رہی ہیں اور تکفیری ٹولہ اسکتباری قوتوں کے پے رول پر کام کر رہا ہے، اس کا ایک مرکز مصر، ایک مرکز سعودی عرب اور ایک مرکز پاکستان میں ہے، یہ دوسرے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، القاعدہ، داعش، النصرۃ، لشکر جھنگوی اور جنداللہ ہیں، ان عنوانات کے تحت پاکستان اور عالم اسلام میں مختلف مقامات سے جنگجوؤں کو لاکر جمع کیا گیا۔ افغانستان کے مقدس جہاد کو بھی یرغمال بنایا گیا اور اس کو تکفیریوں کے ہاتھوں میں ڈال دیا گیا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لیے سعودی عرب کے پیٹ میں سب سے زیادہ درد ہوا اور شام میں تیراسی ملکوں کے دہشت گردوں کو لاکر جمع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں نوے فیصد اہلسنت کو تکفیریوں نے شہید کیا، سعودیہ کو اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی قیادت میں مقاومت اور شام کی حمایت پسند نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ دیر سے شروع کی گئی، نواز شریف کی حکومت نے اس سلسلے میں تاخیر کرکے قاتل کا کردار ادا کیا، آج جو آپریشن شروع ہوا ہے، وہ پورے ملک میں ہونا چاہیے، صرف شمالی وزیرستان تک محدود رکھنا ملک کے ساتھ دشمنی ہوگی، ہم اس تکفیری گروہ کو اچھی طرح جانتے ہیں، سوات میں آپریشن کرکے وزیرستان کو چھوڑنا ایسا ہی تھا جیسے سانپ کو زخمی کرکے چھوڑ دینا۔
ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف کی حکومت بالکل کوفہ کے ابن زیاد کی حکومت کی مثل ہے، اس سال راولپنڈی میں ہمارے ساتھ جو ہوا، میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی ایک شیعہ نے بھی کسی دکان کو آگ نہیں لگائی، نہ ہی کوئی شخص کسی شیعہ نے قتل کیا، اس واقعے میں دہشت گرد نہیں بلکہ گولڈ میڈلسٹ طالب علم اور گریڈ 14 سے 19 کے سرکاری افسران کو بلاجواز گرفتار کیا گیا، اسٹیٹ ورسز شیعہ مقدمہ لڑا گیا، حکومت نے سردار اسحاق کو شیعہ مکتب کے خلاف کیس لڑنے کے لئے ایک کروڑ روپے دیئے، پنجاب حکومت کا جانبدارانہ کردار ہے، یہی کچھ ماڈل ٹاؤن سانحے میں ہوا، وہاں پولیس نے قادری صاحب کے دروازے پر جو خواتین تھیں، ان کے منہ میں گولیاں ماریں، یہ تکفیری ٹولے کی ہی سوچ ہے، جو ماضی کی طرح سے دہشت گردی کر رہے ہیں، یہ پہلے بھی اسی طرح کرتے رہے ہیں۔
راولپنڈی کے سانحے میں سنی بھائیوں نے ہمارا ساتھ دیا، ہم نے ان سے وعدہ کیا، ہم بھی آپ کا ساتھ دیں گے، کیونکہ ہم نے وفا حضرت ابولفضل العباس سے سیکھی ہے، ہم نے  طاہر القادری صاحب کے دس نکاتی ایجنڈے میں دو اضافی نکات درج کروانے کے لئے دیئے ہیں، ہم تمام قاتلوں کے خلاف ہیں۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ  جب چلاس کا واقعہ ہوا تھا تو ہم نے نو دن تک دھرنا دیا تھا اور آرمی چیف جنرل کیانی کو کہا تھا کہ ہم ان قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے، ان کی ڈوریں آپ کے گھروں تک جاتی ہیں، ہم پاکستان میں مارے جانے والے ہر مظلوم کے ساتھ ہیں، جب کوئی مسجد میں ہے تو مسلمان شیعہ یا سنی ہے، مندر میں ہندو، چرچ میں عیسائی ہیں، لیکن جب باہر ہیں تو ہم پاکستانی ہیں۔ فلسطین میں ہر ساڑھے چار منٹ کے بعد حملہ ہو رہا ہے، عرب حکمرانوں کی خیانتوں نے شام، عراق اور فلسطین کو لہولہان کر دیا ہے،  انشاءاللہ اس سال یوم القدس مثالی ہوگا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کو شرکت کرنا چاہیئے، تاکہ فلسطین کے مظلوموں سے بھرپور اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔

.......

/169